وقت جس کو موڑ دے اس کو کوئی بدل نہیں سکتا

آج ہم سب ایک دوسرے سے متنفر نظر ارہے ہیں ایک دوسرے سے بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں نہ جانے کیوں کر دنیا ایک دوسرے کو بھاگنے کی ایک سیکھ دے رہے ہیں اور اسی سیکھ کی وجہ سے آج معاشرہ میں ہر ایک ایک دوسرے سے شکایت کر رہا ہے اسی شکایت کے کارن ہم حسد بغض عناد جیسے کبھی صفت کو اپنے اندر پنپنے دے رہے ہیں نہ جانے کیوں کر ایک انسان کو ایک انسان کی متلاشی ہمیشہ ہونی چاہیے اور ایک دوسرے سے شفقت و محبت الفت و محبت اور ہمدردی ہونی چاہیے آج معاشرہ کسی ہمدردی کو نہ دینے کی وجہ سے اور ایک دوسرے کے مصیبتوں میں تنگدستیوں میں کام نہ انے کی وجہ سے ہی ایک دوسری کی غیبت چغل خوری جیسے بیماریوں کو ہم اپ سے تنازع میں لے کر آتے ہیں۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ وقت بڑا انمول ہوتا ہے اور وقت نے جس کو توڑا وہ کبھی جوڑ نہیں سکتا اس لیے وقت توڑ دے اس سے پہلے اپنے آپ کو ایسا جوڑے ایسا جوڑے کہ وقت بھی آپ کو توڑنے پر پورا بل لگانے کے باوجود بھی آپ کو توڑ نہ سکے۔

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

وقت بڑا انمول ہے۔

وقف بورڈ 2024 میں ترمیمی قانون

वक्फ संशोधन बिल 2024 एक गन्दी पॉलिसी